ایمان اور محبت | ایمن عزیز

153

 

آج کافی عرصے بعد اُس کے نفس نے اُسے جھنجوڑنا چاہا۔ وہ کہیں بھٹک سی گئی تھی۔اُس راستے کی طرف گامزن تھی جہاں اُسکا دل تو لطف اندوز ہو رہا تھا مگراندر سے اُسکا نفس کچھ اور ہی پکار رہا تھا۔ایک عجیب سی کشمکش تھی جو اُس کے اندر جاری تھی۔ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ گناہوں کے خمر میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔یہ خمر ہی تو تھا کہ جب بھی وہ آرحم کے بارے میں سوچتی تو اُس کا خیال اپنے دل و دماغ سے مٹا نہ پاتی۔  نا جانے ایسی کیا کشش تھی اُن خیالات میں کہ اُن سے چھٹکارا پانا آسان نہ تھا۔”کیا وہ بھی ایسے ہی میرے بارے میں سوچتا ہو گا جیسے میں سوچتی ہوں؟ ارے نہیں! اُس کے پاس اتنا وقت کہاں کہ میرا خیال کرے۔ وہ مجھ سے بات کر لیتا ہے اتنا کافی نہیں؟” ہر رات منّت کچھ اس طرح خود کو تسلی دیتی رہتی۔وہ سوچتی کہ جب وہ اُس کے خیالات سے باہر نہیں آ پاتی توپھر وہ کیوں نہیں اُس کے بارے میں سوچتا؟ کبھی ایسا کیوں نہیں ہوا کے و ہ خود بات کرنے میں پہل کرے؟ شاید اُسکی ترجیحات الگ تھیں، مگر منّت نے تو ہمیشہ اُسے اوّل شمار کیا تھا۔ایسا کیوں تھا؟کہیں یہ یکطرفہ محبت تو نہیں تھی؟ایسے ہزاروں سوال ہر رات اُس کے دل کو افسردہ اور اس کی آنکھوں کو نم کر جاتے۔ وہ آرحم کو پیغامات بھیجتی رہتی، اُن کی روز بات ہوتی تھی مگر پھر بھی منّت کے دل میں کوئی بے چینی سی رہتی تھی۔

مگرآج معاملہ کچھ مختلف تھا۔آج اُسکی سوچ کا میعار مختلف تھا۔اُسکو خیال آیا کہ اُس کی اس قدر شدید محبت کے باوجود اُس کا دل مطمین کیوں نہیں ہے؟آخر ایسی کیا چیز ہے جو اُس کے پاس نہیں ہے؟ اس محبت میں کچھ منفی عناصر تھے جواُس کو سکون نہیں لینے دے رہے تھے۔ کوئی ایسی چیز تھی جس پر اُس کا ضمیر ملامت کرتا تھا۔ یہ بھی اُس کے ضمیر کی ہی آواز تھی، جو آج پھر اُس کے دل پر دستک دے رہی تھی۔بلآخر اُس نے یہ ٹھان لیا کہ آج اس بات کی کھوج لگا کر رہے گی۔” آخر ایسا کیا ہے جومجھے سکون نہیں لینے دیتا؟”وہ فون پہ فیس بُک کھولے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اچانک ،غیر ارادی طور پر، اُسکی نظرایک تصویر پر پڑی۔ جس پر لکھا تھا:

(سُن رکھو کہ اللّہ کی یاد سےہی دل آرام پاتے ہیں –“ (الرعد: ۲۸”

یہ پڑھ کر اس کاایمان تازہ ہوا۔ گناہوں کی غفلت میں ڈوبے ہوۓ دل میں ایک نور کی سی شمع اُس کے دل کو منوّر کر گیٔ۔ اُس کو اپنا کھویا ہوا عنصرمل گیا۔ وہ جانتی تھی کہ چاہے وہ آرحم سےجتنی بھی محبت کرلے، اللّہ کے نزدیک وہ رشتہ حرام تھا۔آرحم چاہےجتنا بھی اچھا ہو مگر اُس کے لۓ تو وہ نامحرم ہی تھا۔ لیکن اُس بے لوث محبت کا کیاجو وہ آرحم سے کرتی تھی؟ اوراُس کو یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا تھا؟ آخرآج ایسا کیا تھا؟ اُس کا دل بے چینی کی حدود پار کررہا تھا، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اسی کشمکش میں اُس نے اپنے فون میں ہی قرآن پاک کھول لیا۔ بے ترتیبی سے ایک صفحہ کھُل گیا اوراس آیت پراُس کی نظر پڑی:

(وہ جس کو چاہے سیدھے راستے پر چلا تا ہے۔ “  (البقرہ:۱۴۲ ”

چند لمحے و ہ بے یقینی سےاس آیت کو دیکھتی رہی۔بار بار پڑھنے کے بعد اُسے سمجھ آگئی کہ یہ اللّہ کی طرف سے اُس کے لئے اشارہ تھا۔اللّہ تعالٰی اُس کو راہِ راست پر چلانا چاہتے ہیں۔مگر وہ سمجھ نہ پائی کہ اتنے لوگوں میں سے اللّہ نے اُسکو ہی کیوں چُنا؟ آخر اُس میں ایسا کیا تھا؟ وہ تو ایک گناہگار سی لڑکی تھی،جس نے شاید ایسے گناہ بھی کئے تھے جن کا تعین وہ خود بھی نہیں کر سکتی تھی ۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کے اُس کو ایسا اشارہ مِلا؟یہ تو وہ جانتی تھی کہ اللّہ اپنے بندوں کو جھٹلاتا نہیں ہے۔مگر کیا اُس کے گناہ معافی کےقابل تھے؟ اُس کو اس بات کا یقین بھی تھا کہ اگر وہ اللّہ کی طرف رجوع کرے گی تو اللّہ پاک اُس کو معاف کر دیں گے۔ وہ تو غفورو رحیم ہیں۔مگر وہ کس منہ سے ا للّہ سے معافی مانگے؟اور دوسری طرف وہ آرحم کو کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ وہ آرحم جس کے بغیر جینےکے تصور سے بھی وہ خوفزدہ  ہو جاتی تھی،اب اُس کو کیسے چھوڑ سکتی تھی؟وہ اتنی مظبوط نہیں تھی۔پھر اُس نے سوچا کہ کیوں نہ اللّہ سے ہی  ہم کلام ہو کر اپنی ہر مشکل بیان کردے؟ وہ اُٹھی اوروضو کر کے تہجد کی نیت کی۔نماز ادا کر کے دعا میں وہ بالکل ٹوٹ سی گئی۔ایک ایسے بچے کی طرح رو رہی تھی جس کا کوئی کھلونا کھو گیا ہواور اُس کی تلاش میں جانے والا راستہ دشوار گزار ہو۔اُس کا بھی تو سکونِ قلب کھو گیا تھا،اور اُس کوپا نے کا راستہ آسان نہ تھا۔اُس راستےپہ اسے اپنی سب سے پیاری چیز ،اپنی محبت کی قربانی درکار تھی۔اپنے نفس کو مارنا تھا۔اُس نے اللّہ سے فریاد کی،”اے میرے پروردگار!میرے لیئے اس آزمائش کو آسان کردے،میں اتنی  مظبوط نہیں ہوں۔” پھر جیسے اللّہ  نے اُسکی سُن لی،اور اُس کے ذہین میں خیال آیا کےلازمی تو نہیں کہ وہ حرام محبت کے ساتھ ہی گزارا کرے۔اُسکی محبت اُس کے نام کی طرح پاکیزہ بھی تو ہو سکتی ہے نا!ایک خوشی کی لہر تھی جو اُس وقت اُس کی متروم نگاہوں میں دوڑتی ہوئی نظر آئی۔اُس نے ارادہ کر لیا تھا کہ صبح ہی آرحم  سے بات کرے گی ،اور جلد ازجلد  نکاح کر کے وہ اپنے رشتے کو جائز اور پاکیزہ بنا لیں گے۔اسی پُرامید احساس کے ساتھ ناجانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئی۔

صبح جیسے ہی وہ بیدار ہوئی اُس نے اپنافون اُٹھایااور آرحم کو پیغام بھیجا،”مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے”۔تقریباً دو گھنٹے بعد اُس کا جواب آیا۔منّت نے اُس سے بات کرنا چاہی مگر شاید وہ بہت مصروف تھا۔انتظار کے یہ لمحات گزارنا اُس کے لیئے آسان نہ تھا۔دل تھا کے  بے چینی سے دھڑکتا چلا جا رہا تھا۔اگر اُس نے منع کر دیا تو؟اوراگروہ  مان گیاتو کتنا اچھاہوگا!  ایسے ہی کئی خیالات اُس کےدل میں اُجاگر ہو رہے تھے۔بلآخرجب اُس کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوگیا تواُس نے آرحم کو کال ملائی۔ایک…دو…تین…چوتھی گھنٹی پہ اُس نےفون اُٹھالیا۔اور مصروفیت کا بہانابنا کر معذرت بھی کی۔منّت کو اُس کی مصروفیات سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ اُس کو ہرحال میں قبول تھا۔ منّت نے دھڑکتے دل کے ساتھ آرحم کو ساری بات بتا دی اور نکاح کا مطالبہ کیا۔  لیکن اُس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ اُس کے بعد آنے والے لمحات اُس کے لیٔے قیامت خیز ثابت ہوں گے۔ آرحم تو جیسے اُس پر برس ہی پڑا،’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ منّت ہماری شادی نہیں ہو سکتی۔ میرے والدین تمہیں قبول نہیں کریں گے۔ ہمارے خاندان میں ذات سےباہر شادی نہیں کرتے تمہیں پتا ہونا چاہیے تھا۔ لازمی تو نہیں کہ لڑکا اور لڑکی اگر بات کرتے ہوں تو اُن کی شادی بھی ہو۔ ایسا نہیں ہوتا! اور ویسے بھی میری امی نے میری ایک کزن کے ساتھ میرا رشتہ پکا کر دیا ہے ، اور عنقریب ہماری منگنی بھی ہوجاۓ گی۔ مہربانی کر کے تم بھول جاؤ کہ کوئی آرحم بھی تھا۔‘‘ اس کے ساتھ ہی فون بند کردیا۔ اور منّت ؟ وہ وہیں فون ہاتھ میں پکڑے بالکل ساکن کھڑی تھی۔ایک بےیقینی سی تھی اُس کے چہرے پر۔آنکھیں ترّ ہوتی چلی گیٔں اور وہ وہیں گِر سی گیٔ۔ ذہن میں سب کچھ ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔ وہ پیار کے دعوے، عمر بھر کا ساتھ، محبت، ساتھ بِتاۓ لمحات، اور ڈھیروں باتیں۔ کیا وہ سب بس وقت گزارنے کے لئے تھا؟ آرحم کو واقعی اُس سے محبت نہیں تھی؟ اتنا عرصہ کوئی محبت کا دکھاوا کیسےکر سکتا ہے؟ اور وہ بھی تو پاگلوں کی طرح اُس کے لئے دیوانی ہوئی بیٹھی تھی۔ اُس کو یہ خیال کیوں نہیں آیا کہ ہر محبت کو زوال ہے، دنیا کا ہر رشتہ عارضی ہے۔ جب سب چھوڑ جاتے ہیں تو حرام محبت کیسے قائم رہ سکتی ہے؟ اُس کو کیوں خیال نہیں آیا؟ جب وہ ان خیالات کے جھرمٹ سے باہر آئی دل سے آواز آئی، ’خُدایا! یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ؟‘ایک مان تھا جو ٹوٹ گیا۔

جب کچھ کچھ ہوش نے لگا تو اُس نے اللّہ سے رجوع کرنا چاہا۔ کیونکہ کل کی تہجد کے بعد سے اُسے اللّہ سے ہمکلام ہو کر سکون اور اطمینان محسوس ہورہاتھا۔ اس لئے آج بھی اُس کو یہ واحد طریقہ نظر آیا۔ عشئا کی نماز پڑھ کر وہ کافی دیر جائے نما پر بیٹھی رہی۔ زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا، اور آنکھیں تھیں کہ آنسو ٹپکاتی جا رہی تھیں۔ آج اُسے پتا لگا کہ وہ اللّہ ہی ہے جو خاموشیوں کو بھی سنتا ہے۔ آج اُس نے کوئی بات نہیں کی، بس اپنے وجود کو اللّہ کے سامنے سجدہ ریز کیے رکھا۔ وہ اُٹھی تو اُس کی سُرخ آنکھیں بند ہو رہی تھیں، پتا نہیں وہ نیند تھی یا بے ہوشی۔جو بھی تھا، اُسے اُس کے بعد اپنی کوئی ہوش نہیں رہی۔

کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔و ہ نماز ضرور پڑ ھتی مگر کچھ کہہ نہ پاتی۔ شاید اُسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُس کے ساتھ ہوا کیا ہے! اسی دوران اُس نے آرحم سے رابطہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر اُس نے ایک بار بھی جواب نہ دیا۔ ایک رات اسی طرح اُس نے تہجد کی نیت کی اور پھر پوری رات وہیں بیٹھی رہی۔اُس   رات اُس  نےاللّہ سے بہت باتیں کی۔ اُن کو اپنے اور آرحم کے بارے میں ایک ایک بات بتائی۔اُس نے اللّہ سے آرحم کی کوئی شکایت نہیں کی  کیونکہ وہ تو آج بھی اُس سے محبت کرتی تھی ،وہ نہیں کرتا تو کیا ہوا؟ وہ اللّہ سے ہمکلام  ہوئی، “اے میرے پاک پروردگار !میں جانتی ہوں آپ کسی کو اُس کی برداشت سے زیادہ  تکلیف نہیں دیتے ۔مجھے یہ ٹھوکر لگی ہے تب ہی تو میں  نے آپ کی طرف رجوع کیا  ہے۔ورنہ میں تواُس کی محبت میں اندھی ہو چکی تھی۔مجھے پتا ہے آپ مجھے  راہِ راست پر  لانا چاہتے  تھے۔آج نہیں تو کل یہ حقیقت  میرے سامنے آنی ہی تھی،اچھاہوا کہ جلدی پتا لگ گیا۔ اس میں آرحم کی کوئی غلطی نہیں ہے ا للّہ تعالٰی! غلطی تو میری ہے۔میں نے اپنی اوقات سے زیادہ توقعات وابسطہ کر لی تھیں اُس سے۔وہ تو کبھی میرا تھا ہی نہیں۔ میں بھی کتنی پاگل ہوں نا! ایسے کیسے ہم کسی کو اپنا بنانے کی خواہش کر سکتے ہیں؟ ہمیں کوئی حق نہیں ہے ۔ میں اب سب سمجھ گئی ہوں۔ مگر اللّہ تعالٰی! میں بہت کمزور ہوں۔ مجھے ہمت دیں کہ میں خود کو ان حالات سے نکال سکوں۔ان تکلیفوں کی عادت نہیں ہے مجھے۔ مجھے آپکا سہارا چاہیئے۔آپ تو مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے نا! مجھے پورا یقین ہے آپ پر۔ یہ تو اچھا ہی ہوا کہ آرحم نےخود مجھے سب بتا دیاکیونکہ اگر وہ نکاح کے لئے نہ مانتا ،تو مجھے محبت اور ایمان میں سے ایک کو چننا ہوتا۔تو شاید میں بھٹک جاتی۔اب محبت تو نہیں ہے ،بس ایمان ہی ہے اور میرے لیئے یہی کافی ہے۔ جس کے پاس آپ ہوں،پوری کائنات کو بنانے والے،تو اس کو اور کسی کے سہارے کی کیا ضرورت؟ میں اب آرحم سے رابطہ نہیں کروں گی، کہیں میری وجہ اُس کا رشتہ نہ خراب ہوجائے۔ بس آپ اُس کو اُس کی منگیتر کے ساتھ ہمیشہ خوش رکھنا۔ اور مجھے معاف کردیں۔” انگنت آنسواس دوران اُس کی آنکھوں سے بہہ چکے تھے۔مگر ایک عجیب سا اطمینان تھا اُس کے دل میں۔اُس نے اپنا چہرہ صاف کیا اور آئینہ میں خود کو دیکھا۔کیا قصور تھا اُس کا؟ مگر وہ لاجواب تھی۔

وقت گزرتا گیا،اور و ہ اللّہ سے قریب تر ہوتی گئی،اور دل مطمئن ہوتا گیا۔کئی مہینوں بعد آرحم نے اُس سے رابطہ  کیا، اور دوبارہ اُس کی زندگی میں آنے کی خواہش ظاہر کی۔شاید اُسے منّت کی محبت کااحساس ہو گیا تھا۔اُس نے پرانے رشتے کو دوبارہ سے شروع کرنے کا مطالبہ کیا تو منّت کو حالات نے پھر اُسی دوراہے پر لا کھڑا کیا جہاں سے و ہ خود کو  بہت مشکل سے نکال کے لائی تھی۔اُسے آج بھی آرحم سے اُتنی ہی محبت تھی جتنی پہلے تھی۔لیکن فرق صرف اتنا تھا کہ اب اُس کا ایمان مظبوط تھا۔اور غلطی تو ایک  بار ہی ہوتی ہے نا!اُس نے ایمان اور محبت کی جنگ میں سے ایمان کو چُنا۔ وہ جانتی تھی یہی صحیح راستہ ہے۔ اُس نے آرحم کو منع کر دیا۔شاید اُسے بہت کچھ سننا بھی پڑا، مگر اب لوگو کی پرواہ کسے تھی؟ وہ تو اُس کے بھروسے جی رہی تھی جس نے اُس کا ساتھ تب بھی دیا تھا جب اُس کے پاس گناہوں کے علاوہ کحھ بھی نہ تھا۔اللّہ کبھی کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتے۔وہ تو اپنے بندوں سے ستر ماوں سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔

آرحم کے جانے کا دکھ تو تھا مگر وہ جانتی تھی کہ اللّہ اُس کے صبر کا پھل ضرور دیں گے۔ اور اُسے ایک نہ ایک دن پاکیزہ محبت ضرور ملے گی۔ کیونکہ اب وہ صراطِ مستقیم پر تھی۔یہی اُس کے لئیے کافی تھا۔

Leave a Comment

SHARE